حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، قَال: سَمِعْتُ مَوْلَاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا لَيْلَىتُحَدِّثُ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: كُلِي ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ الصَّائِمَ تُصَلِّي عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ حَتَّى يَفْرُغُوا . وَرُبَّمَا قَالَ: حَتَّى يَشْبَعُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا : تم بھی کھاؤ، انہوں نے کہا : میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہوجائیں ۔ بعض روایتوں میں ہے جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہوجائیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہ شریک کی (اوپر والی) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف) (سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (1748) // لفظ آخر ضعيف الجامع (1483) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 785