حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ عُرَيْبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، عَامِرُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ (ﷺ)، وَهُوَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ الْقُرَشِيِّ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ.
عامر بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کا مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث مرسل ہے۔ عامر بن مسعود نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا۔ یہ ابراہیم بن عامر قرشی کے والد ہیں جن سے شعبہ اور ثوری نے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٠٤٩) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” نمیربن عریب “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث مرسل ہے، دیکھئے : الصحیحہ رقم : ١٩٢٢، تراجع الألبانی ٤٧٣) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1922) ، الروض النضير (69) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 797