حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ . قَالَ: وَيَقُولُونَ: وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم احرام کہاں سے باندھیں ؟ آپ نے فرمایا : اہل مدینہ ذی الحلیفہ ٢ ؎ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ ٣ ؎ سے اور اہل نجد قرن سے ٤ ؎۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ٥ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٥٩٣) وانظر : مسند احمد (٢/٤٨، ٦٥) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣) ، والحج ٤ (١٥٢٢) ، و ٨ (١٥٢٥) ، و ١٠ (١٥٢٧) ، والاعتصام ١٥ (٧٣٣٤) ، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢) ، سنن ابی داود/ المناسک ٩ (١٧٣٧) ، سنن النسائی/المناسک ١٧ (٢٦٥٢) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٣ (٢٩١٤) ، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٢) ، مسند احمد (٢/٥٥) ، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١) ، من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : «مواقیت» میقات کی جمع ہے ، میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج کی نیت کرتا ہے۔ ٢ ؎ : مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔ جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔ ٣ ؎ : مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔ ٤ ؎ : اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں ، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔ مکہ سے اس کی دوری ٩٥ کیلو میٹر ہے۔ ٥ ؎ : ایک معروف مقام کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2914) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 831