حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَيَمْشِي فِي السَّعْيِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَمْشِي فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَ: لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَسْعَى، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ.
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے بھی دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے، اور میں کافی بوڑھا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٥٦ (١٩٠٤) ، سنن النسائی/الحج ١٧٤ (٢٩٧٩) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٣ (٢٩٨٨) ، ( تحفة الأشراف : ٧٣٧٩) ، مسند احمد (٢/٥٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2988) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 864