حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنِي بِمَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَائِشَةَ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ لَهَا: لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابيْنِ . قَالَ: فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر (رض) نے ان سے کہا : تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو، جسے ام المؤمنین یعنی عائشہ (رض) تم سے رازدارانہ طور سے بیان کیا کرتی تھیں، انہوں نے کہا : مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر تمہاری قوم کے لوگ جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے، تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس میں دو دروازے کردیتا ، چناچہ ابن زبیر (رض) جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے کعبہ گرا کر اس میں دو دروازے کردیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الحج ١٢٥ (٢٩٠٥) (تحفة الأشراف : ١٦٠٣٠) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٣) ، والأنبیاء ١٠ (٣٣٦٨) ، وتفسیر البقرة ١٠ (٤٤٨٤) ، صحیح مسلم/الحج ٦٩ (١٣٣٣) ، سنن النسائی/الحج ١٢٥ (٢٩٠٣) ، موطا امام مالک/الحج ٣٣ (١٠٤) ، مسند احمد (٦/١١٣، ١٧٧، ٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٢) من غیر ہذا الطریق وبتغیر یسیر في السیاق۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (875) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 875