حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ لَا يَرْمِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَّا بَعْدَ الزَّوَالِ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دسویں ذی الحجہ کو (ٹھنڈی) چاشت کے وقت رمی کرتے تھے اور اس کے بعد زوال کے بعد کرتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ وہ دسویں ذی الحجہ کے زوال بعد کے بعد ہی رمی کرے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٥٣ (١٢٩٩) ، سنن ابی داود/ الحج ٧٨ (١٩٧١) ، سنن النسائی/الحج ٢٢١ (٣٠٦٥) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٥ (٣٠٥٣) ، سنن ابی داود/ المناسک ٥٨ (١٩٣٧) (تحفة الأشراف : ٢٧٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سنت یہی ہے کہ یوم النحر ( دسویں ذوالحجہ ، قربانی والے دن ) کے علاوہ دوسرے ، گیارہ اور بارہ والے دنوں میں رمی سورج ڈھلنے کے بعد کی جائے ، یہی جمہور کا قول ہے اور عطاء و طاؤس نے اسے زوال سے پہلے مطلقاً جائز کہا ہے ، اور حنفیہ نے کوچ کے دن زوال سے پہلے رمی کی رخصت دی ہے ، عطاء و طاؤس کے قول پر نبی اکرم ﷺ کے فعل و قول سے کوئی دلیل نہیں ہے ، البتہ حنفیہ نے اپنے قول پر ابن عباس کے ایک اثر سے استدلال کیا ہے ، لیکن وہ اثر ضعیف ہے اس لیے جمہو رہی کا قول قابل اعتماد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3053) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 894