حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق قَال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍيُحَدِّثُ، يَقُولُ: كُنَّا وُقُوفًا بِجَمْعٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) خَالَفَهُمْ، فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، عمر بن خطاب (رض) نے کہا : مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے : ثبیر ! تو روشن ہوجا (تب ہم لوٹیں گے) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، چناچہ عمر (رض) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤) ، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨) ، سنن ابی داود/ الحج ٦٥ (١٩٣٨) ، سنن النسائی/الحج ٢١٣ (٣٠٥٠) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٦١٦) ، مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3022) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 896