حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ الْهَدْيَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ، لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ حَتَّى يُحْرِمَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ هَدْيَهُ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ مَا وَجَبَ عَلَى الْمُحْرِمِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ٣- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہوجاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الحج ٦٨ (٢٧٨٦) (تحفة الأشراف : ١٧٥١٣) ، مسند احمد (٦/٨٥) (صحیح) (وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الحج ١٠٦ (١٦٩٨) ، و ١٠٧ (١٦٩٩) ، و ١٠٨ (١٦٩٩) ، و ١٠٩ (١٧٠٠) ، و ١١٠ (١٧٠٢، ١٧٠٣) ، الوکالة ١٤ (٢٣١٧) ، والأضاحي ١٥ (٥٥٦٦) ، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١) ، سنن ابی داود/ الحج ١٧ (١٧٥٨) ، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٧٧٧-٢٧٨١) ، و ٦٦ (٢٧٨٢) ، ٦٨ (٢٧٨٥) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٤ (٣٠٩٥) ، مسند احمد (٦/٣٥، ٣٦، ٧٨، ٩١، ١٠٢، ١٢٧، ١٧٤، ١٨٠، ١٨٥، ١٩٠، ١٩١، ٢٠٠، ٢٠٨، ٢١٣، ٢١٦، ٢٢٥، ٢٣٦، ٢٥٣، ٢٦٢) من غیر ہذا الطریق۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3098) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 908