حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ خِلَاسٍ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ فِيهِ اضْطِرَابٌ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) نَهَى أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَلْقًا، وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْهَا التَّقْصِيرَ.
اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی (رض) کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- علی (رض) کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق : «قتادة عن عائشة أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر (بال کتروانا) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١٨٦١٧) (ضعیف) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 915