حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا ذُكِرَتِ الْعُمْرَةُ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي هَذَا الْحَدِيثِ، أَنْ يَعْتَمِرَ الرَّجُلُ عَنْ غَيْرِهِ. وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ.
ابورزین عقیلی لقیط بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج و عمرہ کرنے اور سوار ہو کر سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرلو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں مذکور ہوا ہے کہ آدمی غیر کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٢٦ (١٨١٠) ، سنن النسائی/الحج ٢ (٢٦٢٢) ، و ١٠ (٢٦٣٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠ (٢٩٠٦) ، ( تحفة الأشراف : ١١١٧٣) ، مسند احمد (٤/١٠-١٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2906) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 930