حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎ اور حج مقبول ٢ ؎ کا بدلہ جنت ہی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٥٥٦) ، مسند احمد (٢/٢٤٦، ٤٦١) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/العمرة (١٧٧٣) ، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) سنن النسائی/الحج ٣ (٢٦٢٣) ، و ٥ (٢٦٣٠) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣ (٢٨٨٨) ، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥) ، مسند احمد (٢/٢٦٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٧ (١٨٠٢) ، من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : مراد صغائر ( چھوٹے گناہ ) ہیں نہ کہ کبائر ( بڑے گناہ ) کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ ٢ ؎ : حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2888) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 933