حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) ؟ فَقَالَ: فِي رَجَبٍ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي شَهْرِ رَجَبٍ قَطُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا : رسول اللہ ﷺ نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : رجب میں، اس پر عائشہ (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے نہیں سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٧ (٢٩٩٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٣٧٣) ، وراجع ما عند صحیح البخاری/العمرة ٣ (١٧٧٦) ، صحیح مسلم/الحج ٣٥ (١٢٥٥، ١٢٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر عائشہ (رض) کی یہ بات سن کر خاموش رہے ، کچھ نہیں بولے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پر مشتبہ تھا ، یا تو وہ بھول گئے تھے ، یا انہیں شک ہوگیا تھا ، اسی وجہ سے ام المؤمنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المؤمنین کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2997 و 2998) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 936