حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ عَلِيًّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ علی (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا : تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا ٢ ؎، امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٢ (١٥٥٨) ، صحیح مسلم/الحج ٣٤ (١٢٥٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٨٥) ، مسند احمد (٣/١٨٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے احرام کو دوسرے کے احرام پر معلق کرنا جائز ہے۔ ٢ ؎ : یعنی : عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا ، پھر ٨ ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا ، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے ، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا ، ورنہ تمتع کرتے ، اس لیے تمتع افضل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (1006) ، الحج الکبير صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 956