حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْسُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ قَالَ: بِمِنًى . قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ.
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے کہا : مجھ سے آپ کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یاد کر رکھی ہو۔ بتائیے آپ نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کہاں پڑھی ؟ انہوں نے کہا : منیٰ میں، (پھر) میں نے پوچھا : اور کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی ؟ کہا : ابطح میں لیکن تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے امراء و حکام کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسحاق بن یوسف الازرق کی روایت سے غریب جانی جاتی ہے جسے انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٨٣ (١٦٥٣) ، و ١٤٦ (١٧٨٣) ، صحیح مسلم/الحج ٥٨ (١٣٠٩) ، سنن ابی داود/ المناسک ٥٩ (١٩١٢) ، سنن النسائی/الحج ١٩٠ (٣٠٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ٩٨٨) ، سنن الدارمی/المناسک ٤٦ (١٩١٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1670) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 964