حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، وَهَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالنَّعْيَ فَإِنَّ النَّعْيَ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ. وَفِي الْبَاب، عَنْ حُذَيْفَةَ.
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «نعی» (موت کی خبر دینے) ١ ؎ سے بچو، کیونکہ «نعی» جاہلیت کا عمل ہے ۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : «نعی» کا مطلب میت کی موت کا اعلان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں حذیفہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٤٦١) (ضعیف) (سند میں میمون ابو حمزہ اعور ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : کسی کی موت کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں ، «نعی» جائز ہے خود نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے ، اسی طرح زید بن حارثہ ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ (رض) کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں ، یہاں جس «نعی» سے بچنے کا ذکر ہے اس سے اہل جاہلیت کی «نعی» ہے ، زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتا تھا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف تخريج إصلاح المساجد (108) // ضعيف الجامع الصغير (2211) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 984