حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ، قَالَ ابْنُ مِنْهَالٍ: بُرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، زَادَ النُّفَيْلِيُّ: يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال ہدی ١ ؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ٢ ؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ سونے کا چھلا تھا ، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس سے آپ ﷺ مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٤٠٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٨ (٣١٠٠) مسند احمد (١/٢٦١، ٢٧٣) (حسن) بلفظ : ” فضة “ وضاحت : ١ ؎ : ” ہدی “: حج میں ذبح کے لئے لے جانے والے جانور کو کہتے ہیں۔ ٢ ؎ : یہ اونٹ رسول اللہ ﷺ کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔ ٣ ؎ : تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔