حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ: مَنْ شُبْرُمَةُ ؟قَالَ: أَخٌ لِي، أَوْ قَرِيبٌ لِي، قَالَ: حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ، قَالَ: لَا، قَالَ: حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا : لبيك عن شبرمة حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے آپ ﷺ نے دریافت کیا : شبرمہ کون ہے ؟ ، اس نے کہا : میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ ﷺ نے پوچھا : تم نے اپنا حج کرلیا ہے ؟ ، اس نے جواب دیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٩ (٢٩٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ٥٥٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بعض علماء کے نزدیک حج بدل (دوسرے کی طرف سے حج کرنا) درست ہے، خواہ اپنی طرف سے حج نہ کرسکا ہو، بعض ائمہ کے نزدیک اگر وہ اپنی طرف سے حج نہیں کرسکا ہے تو دوسرے کی طرف سے حج بدل درست نہ ہوگا، اور یہی صحیح مذہب ہے، اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس شخص کو جو لبيك عن شبرمة کہہ رہا تھا حکم دیا : حج عن نفسک ثم حج عن شبرمة : ” پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو “۔