حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ، قَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا قُلْنَا: لَا. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. زَادَ وَكِيعٌ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاهُ لَكَ. فَقَالَ: أَدْنِيهِ. قَالَ طَلْحَةُ: فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے : کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ جب میں کہتی : نہیں، تو فرماتے : میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیے میں (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٢ (١١٥٤) ، سنن الترمذی/الصوم ٣٥ (٧٣٤) ، سنن النسائی/الصیام ٣٩ (٢٣٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٦ (١٧٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٧) (حسن صحیح )