حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا عَلَيْكُمَا صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ (رض) کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا : روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٣٣٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصوم ٣٦ (٧٣٥) ، موطا امام مالک/الصیام ١٨ (٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی زُمَیل مجہول ہیں )