حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)لَمْ يُصَلِّ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ.
ابوبرزہ اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ماعز بن مالک (رض) کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٦١٠) (حسن صحیح) (اس کی سند میں نفر من أهل البصرة مبہم رواة ہیں، لیکن یہ جماعت تابعین کثرت کی وجہ سے قابل استناد ہیں، نیز جابر کی صحیح حدیث (ابو داود حدیث نمبر (٤٤٣٠) سے اس کو تقویت ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ماعز (رض) کو رجم کیا گیا تھا، صحیح بخاری میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، نیز آپ نے غامدیہ (رض) پر بھی پڑھی، ان کو بھی سنگسار کیا گیا تھا )