حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي الْعَنِبَسِ عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ،عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا.
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہوگئے، آپ نے فرمایا : عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٥٣، ٢٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالدبس مجہول، اور ابومرزوق لین الحدیث ہیں لیکن بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے باادب کھڑے رہنے کی ممانعت جابر (رض) کی حدیث سے صحیح مسلم میں مروی ہے )