حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ غَالِبٍ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ بِباب الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: ائْتِهِ، فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ.
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا : آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا : میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا : تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں کئی مجاہیل ہیں، البانی نے اسے حسن کہا ہے، صحیح ابی داود، ٣ ؍ ٤٨٢، جبکہ (٢٩٣٤) نمبر کی سابقہ حدیث (جو اس سند سے مفصل ہے) پر ضعف کا حکم لگایا ہے )