حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَصَّ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ، ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ، ثُمَّ كَبِّرْ، فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهِ، وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ، وَقَالَ فِيهِ: وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ.
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (فرمایا) ، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی اس میں ہے : پھر وضو کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر تشہد پڑھو ١ ؎، پھر اقامت کہو، پھر الله اکبر کہو، پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو، ورنہ الحمد لله، الله أكبر، لا إله إلا الله کہو ، اور اس میں ہے کہ : اگر تم نے اس میں سے کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں سے کم کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٥٧، (تحفة الأشراف : ٣٦٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تشہد سے مراد وضو کے بعد کی دعا ہے۔