حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَافْتِرَاشِ السَّبْعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ. هَذَا لَفْظُ قُتَيْبَةَ.
عبدالرحمٰن بن شبل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوے کی طرح چونچ مارنے ١ ؎، درندے کی طرح بازو بچھانے ٢ ؎، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کرلینے سے (جیسے اونٹ متعین کرلیتا ہے) منع فرمایا ہے (یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ١٤٥ (١١١٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٤ (١٤٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٨، ٤٤٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کوے کی طرح چونچ مارنے سے مراد ارکان نماز کی ادائیگی جلدی جلدی کرنا ہے۔ ٢ ؎ : درندے کی طرح بازو بچھانے سے مراد سجدے میں دونوں ہاتھ کو زمین سے لگانا اور پیٹ کو رانوں سے ملا کر رکھنا ہے۔