حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِفَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ؟، قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّكَ قُلْتَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ.
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے ، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے (تعجب سے) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ ﷺ نے پوچھا : عبداللہ بن عمرو ! کیا بات ہے ؟ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے : بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٥) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٦٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٣٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤١ (١٢٢٩) ، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٦ (١٩) ، مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢، ٢٠١، ٢٠٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میرا معاملہ تمہارے جیسا نہیں ہے مجھے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی پورا ثواب ملتا ہے۔