حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ (ﷺ) عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، فَقَالَ: صَلَاتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَصَلَاتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے ١ ؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٥) ، ١٨ (١١١٦) ، ١٩ (١١١٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٢ (٣٧١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٩ (١٦٦١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤١ (١٢٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے آدھا ہے “۔