hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10006

.

سنن البيهقي

10006
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۰۰۲) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَثِیرٍ الدَّارِیِّ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ : قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَکَّۃَ فَدَخَلَ دَارَ النَّدْوَۃِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَأَرَادَ أَنْ یَسْتَقْرِبَ مِنْہَا الرَّوَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَأَلْقَی رِدَائَ ہُ عَلَی وَاقِفٍ فِی الْبَیْتِ فَوَقَعَ عَلَیْہِ طَیْرٌ مِنْ ہَذَا الْحَمَامِ فَأَطَارَہُ فَوَقَعَ عَلَیْہِ فَانْتَہَزَتْہُ حَیَّۃٌ فَقَتَلَتْہُ فَلَمَّا صَلَّی الْجُمُعَۃَ دَخَلْتُ عَلَیْہِ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ : احْکُمَا عَلَیَّ فِی شَیْئٍ صَنَعْتُہُ الْیَوْمَ إِنِّی دَخَلْتُ ہَذِہِ الدَّارِ وَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَقْرِبَ مِنْہَا الرَّوَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَأَلْقَیْتُ رِدَائِی عَلَی ہَذَا الْوَاقِفِ فَوَقَعَ عَلَیْہِ طَیْرٌ مِنْ ہَذَا الْحَمَامِ فَخَشِیتُ أَنْ یُلَطِّخَہُ بِسَلْحِہِ فَأَطَرْتُہُ عَنْہُ فَوَقَعَ عَلَی ہَذَا الْوَاقِفِ الآخَرِ فَانْتَہَزَتْہُ حَیَّۃٌ فَقَتَلَتْہُ فَوَجَدْتُ فِی نَفْسِی أَنِّی أَطَرْتُہُ مِنْ مَنْزِلَۃٍ کَانَ فِیہَا آمِنًا إِلَی مَوْقِعَۃٍ کَانَ فِیہَا حَتْفُہُ فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْف تَرَی فِی عَنْزِ ثَنِیَّۃِ عَفْرَائَ نَحْکُمُ بِہَا عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : أُرَی ذَلِکَ فَأَمِرَ بِہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۶۴۴]
(١٠٠٠٢) نافع بن عبدالحارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جمعہ کے دن مکہ آئے دار الندوہ میں داخل ہوئے ۔ ان کا ارادہ تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کریں، انھوں نے اپنی چادر بیت اللہ کے پاس کھڑے ہوئے شخص پر ڈالی۔ اس پر ایککبوتر آکر بیٹھ گیا۔ اس کو اڑایا گیا، پھر بیٹھ گیا ۔ اس کو سانپ نے کھینچ لیا اور اس کو قتل کردیا۔ جب اس نے نماز پڑھی تو میں اور عثمان بن عفان ان کے پاس گئے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے بارے میں فیصلہ کرو۔ جو آج میں نے کیا ہے۔ میں اس گھر میں داخل ہو۔ اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کروں، میں نے اپنی چادر اس پر ڈال دی۔ اس پر کبوتر بیٹھ گیا۔ میں ڈر گیا کہ وہ اس کو اپنی بیٹ سے آلودہ کر دے گا۔ میں نے اس سے اڑا دیا۔ وہ دوسرے ستون پر بیٹھ گیا تو سانپ نے ڈس کر اس کو قتل کردیا، میں نے اپنے دل میں پایا کہ میں نے اس کو امن والی جگہ سے اڑایا اور وہ ایسی جگہ چلا گیا جہاں اس کو موت کے گھاٹ اترنا پڑا۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم امیرالمومنین کے بارے میں دو دانت والی بکری کے بچے کا فیصلہ کردیں۔