hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1002

.

سنن البيهقي

1002
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۰۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -عَرَّسَ بِأُولاَتِ الْجَیْشِ وَمَعَہُ عَائِشَۃُ زَوْجَتُہُ ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَہَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارٍ ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَائَ عِقْدِہَا ذَلِکَ ، حَتَّی أَضَائَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -رُخْصَۃَ التَّطَہُّرِ بِالصَّعِیدِ الطَّیِّبِ ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَضَرَبُوا بِأَیْدِیہِمُ الأَرْضَ ، ثُمَّ رَفَعُوا أَیْدِیَہُمْ وَلَمْ یَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَیْئًا ، فَمَسَحُوا بِہَا وُجُوہَہُمْ وَأَیْدِیَہُمْ إِلَی الْمَنَاکِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَیْدِیہِمْ إِلَی الآبَاطِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَلاَ یَعْتَبِرُ بِہَذَا النَّاسُ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لِعَائِشَۃَ : وَاللَّہِ مَا عَلِمْتُ أَنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فِیہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَکَرَ ضَرْبَتَیْنِ کَمَا ذَکَرَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ وَیُونُسُ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : فِی حَدِیثِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ہَذَا إِنْ کَانَ تَیَمُّمُہُمْ إِلَی الْمَنَاکِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَہُوَ مَنْسُوخٌ ، لأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَ أَنَّ ہَذَا أَوَّلَ تَیَمُّمٍ کَانَ حِینَ نَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ ، فَکُلُّ تَیَمُّمٍ کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -بَعْدَہُ فَخَالَفَہُ فَہُوَ لَہُ نَاسِخٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَرُوِیَ عَنْ عَمَّارٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -أَمَرَہُ أَنْ یُیَمِّمَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۲۰]
(١٠٠٣) سیدنا عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ (رض) بھی تھیں ، ان کا ظفار گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہوگیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کردی ۔ صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے ہوئے، انھوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا ، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں سے اندرونی حصیکا بغلوں تک۔ ابن شھاب کہتے ہیں : لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر (رض) نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمامتیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی (رح) ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔