(۱۰۰۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ فِی قَوْلِہِ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ قَالَ بَلَغَنِی عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ أَنَّہُ قَالَ: مَعْنَاہُ کُلُّ سَبُعٍ یَعْقِرُ وَلَمْ یَخُصَّ بِہِ الْکَلْبَ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : قَدْ یَجُوزُ فِی الْکَلاَمِ أَنْ یُقَالَ لِلسَّبُعِ کَلْبٌ أَلاَ تَرَی أَنَّہُمْ یَرْوُونَ فِی الْمَغَازِی أَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ أَبِی لَہَبٍ کَانَ شَدِیدَ الأَذَی لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : اللَّہُمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْبًا مِنْ کِلاَبِکَ ۔ فَخَرَجَ عُتْبَۃُ إِلَی الشَّامِ مَعَ أَصْحَابِہِ فَنَزَلَ مَنْزِلاً فَطَرَقَہُمُ الأَسَدُ فَتَخَطَّی إِلَیْہِ مِنْ بَیْنِ أَصْحَابِہِ فَقَتَلَہُ فَصَارَ الأَسَدُ ہَا ہُنَا قَدْ لَزِمَہُ اسْمُ الْکَلْبِ قَالَ وَمِنْ ذَلِکَ قَوْلِہِ تَعَالَی {وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِینَ} فَہَذَا اسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنَ الْکَلْبِ ثُمَّ دَخَلَ فِیہِ صَیْدُ الْفَہْدِ وَالصَّقْرِ وَالْبَازِی فَلِہَذَا قِیلَ لِکُلِّ جَارِحٍ أَوْ عَاقِرٍ مِنَ السِّبَاعِ کَلْبٌ عَقُورٌ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : أَمَرْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ نَقْتُلَ الْحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ وَالْفَأْرَۃَ وَالزُّنْبُورَ وَنَحْن مُحْرِمُونَ۔ [صحیح]
(١٠٠٥٢) ابوعبید کلب عقور کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : ہر کاٹنے والا درندہ مراد ہے ، یہ کتے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جاسکتا ہے جیسے مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب پر کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کردیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ کا فرمان بھی ہے : { وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ } [المائدۃ : ٤] ” اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔ “ یہ اسم بھی کلب سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو کلب عقور کہتے ہیں۔
(ب) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب (رض) نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کردیں۔