(۱۰۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَلَسَ إِلَیْہِ رَجُلٌ لَمْ أَرَ رَجُلاً أَطْوَلَ شَعَرًا مِنْہُ فَقَالَ : أَحْرَمْتُ وَعَلَیَّ ہَذَا الشَّعَرُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : اشْتَمِلْ عَنْ مَا دُونَ الأُذُنَیْنِ مِنْہُ۔ قَالَ : قَبَّلْتُ امْرَأَۃً لَیْسَ بِامْرَأَتِی قَالَ : زَنَی فُوکَ ۔ قَالَ: رَأَیْتُ قَمْلَۃً فَطَرَحْتُہَا قَالَ : تِلْکَ الضَّالَّۃُ لاَ تُبْتَغَی۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۳۶۹۱]
(١٠٠٦٣) میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لمبے بالوں والا آدمی تشریف فرما تھا، میں نے اس سے بڑے بال کسی کے نہ دیکھے تھے۔ اس نے کہا : میں نے احرام باندھا ہے اور یہ بال میرے اوپر ہیں۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کانوں کے نیچے سے کاٹ دو۔ اس نے کہا : میں نے عورت کا بوسہ لیا ہے حالاں کہ وہ عورت میری نہ تھی۔ فرمایا : یہ تیرے منہ کا زنا ہے۔ اس نے کہا : میں نے جوئیں دیکھیں ان کو اتار پھینکا۔ فرمانے لگے : گم شدہ اشیاء کو تلاش نہ کیا جائے گا۔