(۱۰۰۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَحُکُّ رَأْسِی وَأَنَا مُحْرِمٌ؟ قَالَ : فَأَدْخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَدَہُ فِی شَعَرِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَحَکَّ رَأْسَہُ بِہَا حَکًّا شَدِیدًا قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَصْنَعُ ہَکَذَا قَالَ : أَفَرَأَیْتَ إِنْ قَتَلْتُ قَمْلَۃً؟ قَالَ : بَعُدَتْ مَا لِلْقَمْلَۃِ مَا تُغْنَی مِنْ حَکِّ رَأْسِکَ وَمَا إِیَّاہَا أَرَدْتُ وَمَا نُہِیتُمْ إِلاَّ عَنْ قَتْلِ الصَّیْدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۴۹۵۰]
(١٠٠٦٤) عیینہ بن عبدالرحمن بن جوش اپنے والد سے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس (رض) سے کہا : کیا میں حالت احرام میں اپنے سر میں خارش کرسکتا ہوں ؟ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے اپنا ہاتھ اپنے بالوں میں داخل کیا اور شدید قسم کی خارش کی حالاں کہ وہ محرم تھے، کہنے لگے : میں تو اس طرح کرلیتا ہوں۔ اس نے کہا : اگر میں جوں ماردو۔ تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ فرمانے لگے : یہ تو اس سے بھی بعید کی بات ہوئی۔ اصل میں ان کا ارادہ تھا کہ صرف تمہیں شکار سے منع کیا گیا ہے اس کے علاوہ کوئی ممانعت نہیں ہے۔