(۱۰۰۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَآہُ وَالْقَمْلُ یَسْقُطُ عَلَی وَجْہِہِ فَقَالَ لَہُ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّکَ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَہُ أَنْ یَحْلِقَ قَالَ وَہُمْ بِالْحُدَیْبِیَۃِ لَمْ یَتَبَیَّنْ لَہُمْ أَنَّہُمْ یَحِلُّونَ بِہَا وَہُمْ عَلَی طَمَعٍ مِنْ دُخُولِ مَکَّۃَ فَأَنْزَل اللَّہُ الْفِدْیَۃَ وَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُطْعِمَ فَرَقًا بَیْنَ سِتَّۃِ مَسَاکِینَ أَوْ صَوْمَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ أَوْ نُسُکَ شَاۃٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ وَرْقَائَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۲۰]
(١٠٠٧٤) کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب بن عجرہ کو دیکھا کہ جوئیں ان کے سر سے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ تجھے تکلیف دیتی ہیں ؟ کعب کہنے لگے : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر منڈانے کا حکم دے دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ حدیبیہ میں تھے، ان کے لیے وضاحت نہ کی گئی کہ اس کی وجہ سے وہ حلال ہوجائیں گے اور دخول مکہ کا بھی طمع تھا۔ اللہ نے فدیہ نازل کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک (فرق، سولہ رطل یا تین صاع ) کھانے کا چھ مسکینوں کو دینے کا حکم فرمایا۔ یا تین دن کے روزے رکھنے یا ایک بکری قربانی کرنے کا۔