hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10079

.

سنن البيهقي

10079
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِی الْفِتْنَۃِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَیْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَرَجَ فَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ وَسَارَ حَتَّی إِذَا ظَہَرَ عَلَی الْبَیْدائِ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ : مَا أَمْرَہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَۃِ۔ فَخَرَج حَتَّی إِذَا جَائَ الْبَیْتَ طَافَ بِہِ سَبْعًا وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا لَمْ یَزِدْ عَلَیْہِ وَرَأَی أَنَّہُ مُجْزِئٌ عَنْہُ وَأَہْدَی۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ بُکَیْرٍ فَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَیْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی أَحْلَلْنَا کَمَا أَحْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۲]
(١٠٠٧٥) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فتنہ کے دور میں عمرہ کی غرض سے نکلے اور فرمانے لگے : اگر میں بیت اللہ سے روک دیا گیا تو پھر ہم ویسے ہی کریں گے ، جیسا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے اور چلے، یہاں تک کہ بیدا پہاڑی پر چڑھ گئے۔ پھر مڑ کر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : ان دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک جیسا ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کو بھی واجب کرلیا ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں آکر طواف کیا، صفا ومروہ کی سعی کی، سات سات چکر کاٹے اس سے زیادہ نہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان سے کفایت کر جائے گا اور قربانی کی۔
(ب) ابن بکیر کی روایت میں ہے کہ اس نے عمرہ کا احرام باندھا اس وجہ سے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
(ج) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : اگر ہم بیت اللہ سے روک دیے گئے تو ویسا ہی کریں گے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا، یعنی ہم حلال ہوجائیں گے جیسے ہم حدیبیہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حلال ہوگئے تھے۔