(۱۰۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ یُصَدِّقُ حَدِیثُ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا صَاحِبَہُ قَالاَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی بِضْعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْہَدْیَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَۃِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی نُزُولِہِ أَقْصَی الْحُدَیْبِیَۃِ ثُمَّ فِی مَجِیئِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَمَا قَاضَاہُ عَلَیْہِ حِینَ صَدُّوہُ عَنِ الْبَیْتِ قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِیَّۃِ الْکِتَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَصْحَابِہِ : قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا ۔ قَالَ فَوَاللَّہِ مَا قَامَ مِنْہُمْ رَجُلٌ حَتَّی قَالَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا لَمْ یَقُمْ مِنْہُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَذَکَرَ لَہَا مَا لَقِیَ مِنَ النَّاسِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُحِبُّ ذَلِکَ اخْرُجْ ثُمَّ لاَ تُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ کَلِمَۃً حَتَّی تَنْحَرَ بُدْنَکَ وَتَدْعُوَ حَالِقَکَ فَیَحْلِقَکَ فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ نَحَرَ ہَدْیَہُ وَدَعَا حَالِقَہُ فَحَلَقَہُ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِکَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَحْلِقُ لِبَعْضٍ حَتَّی کَادَ بَعْضُہُمْ یَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۹۴۵]
(١٠٠٧٦) مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں کی احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ حدیبیہ کے سال نکلے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالحلیفہ آئے تو وہاں اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا اور شعار کیا (اونٹ کی کوہان کو داہنی طرف سے چیر دینا تاکہ ہدی کی علامت معلوم ہو) اور عمرہ کا احرام باندھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے کنارے اترے تو سہیل بن عمرو آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فیصلہ سنایا جب آپ کو بیت اللہ سے روک دیا گیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح نامے سے فارغ ہوئے تو اپنے صحابہ سے فرمایا : اٹھو قربانی کر کے سر منڈاؤ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! کوئی شخص بھی اٹھا نہ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ فرمایا، جب کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ ام سلمہ (رض) کے پاس چلے گئے اور ان سے تذکرہ کیا جو لوگوں کی طرف سے تکلیف آئی تو ام سلمہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ اس کو پسند فرماتے ہیں کہ جائیں کسی سے کلام نہ کریں، اپنی قربانی کر کے سر منڈوا دیں۔ آپ نکلے، کسی سے کلام نہ کی اور اپنی قربانی ذبح کر کے اپنے سر کو بھی منڈوایا۔ جب لوگوں نے دیکھا تو انھوں نے اپنی قربانیاں کیں اور ایک دوسرے کے سر مونڈے لگے قریب تھا کہ غم کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو قتل کردیتے۔