(۱۰۲) حَدَّثَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَۃَ الْجُہَنِیُّ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُکَیْمٍ یُحَدِّثُ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ: أَنَّہُ اسْتَسْقَی بِالْمَدَائِنِ فَأَتَاہُ دِہْقَانٌ بِإِنَائٍ مِنْ فِضَّۃٍ فَحَذَفَہُ -قَالَ: وَکَانَ حُذَیْفَۃُ رَجُلاً فِیہِ حِدَّۃٌ -فَقَالَ: إِنِّی أَعْتَذِرُ إِلَیْکُمْ مِنْ ہَذَا ، إِنِّی کُنْتُ قَدْ تَقَدَّمْتُ إِلَیْہِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-قَامَ فِینَا فَنَہَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِی آنِیَۃِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، وَأَنْ نَلْبَسَ الْحَرِیرَ وَالدِّیبَاجَ وَقَالَ: ((ہُوَ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ لَکُمْ فِی الآخِرَۃِ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری۱۱۰ و مسلم ۲۰۶۷]
(١٠٢) حضرت حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے مدائن میں کھیتی باڑی کی تو ان کے پاس ایک کسان چاندی کا برتن لے کر آیا۔ انھوں نے ایک طرف پھینک دیا ۔ راوی کہتا ہے کہ حضرت حذیفہ سخت طبیعت کے مالک تھے۔ آپ نے فرمایا : میں تم سے اس (کے استعمال) سے معذرت خواہ ہوں، میں اس کی طرف گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں پینے سے منع کیا اور ہمیں ریشم پہننے سے خواہ موٹا ہو یا باریک منع کیا اور فرمایا : وہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔