(۱۰۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الشَّافِعِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سَیْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یَقُولُ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی:أَنَّہُمْ کَانُوا عِنْدَ حُذَیْفَۃَ فَاسْتَسْقَی فَسَقَاہُ مَجُوسِیٌّ بِقَدَحِ فِضَّۃٍ ، فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِی یَدِہِ رَمَاہُ بِہِ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلاَ أَنِّی نَہَیْتُہُ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلاَ مَرَّتَیْنِ -یَقُولُ أَبُو نُعَیْمٍ: کَأَنَّہُ یَقُولُ لَمْ أَصْنَعْ ہَذَا -وَلَکِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَقُولُ: ((لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِیرَ وَلاَ الدِّیبَاجَ ، وَلاَ تَشْرَبُوا فِی آنِیَۃِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، وَلاَ تَأْکُلُوا فِی صِحَافِہَا فَإِنَّہَا لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَلَکُمْ فِی الآخِرَۃِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَیْفِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۱۱۰، مسلم ۲۰۶۷]
(١٠٣) سیدنا عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حذیفہ (رض) کے پاس تھے، انھوں نے پانی مانگا تو مجوسی نے انھیں چاندی کے پیالے میں پانی پلانا چاہا، جب اس نے پیالہ آپ (رض) کے ہاتھ پر رکھا تو انھوں پیالہ پھینک دیا، پھر فرمایا : اگر میں نے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ اس کو منع نہ کیا ہوتا، ابو نعیم کہتے ہیں گویا کہ وہ کہ رہے تھے : تو میں اس طرح نہ کرتا، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سلک اور باریک ریشم نہ پہنو اور نہ تم سونے چاندی کے برتنوں میں پیو اور نہ تم سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھاؤ۔ یہ برتن ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔