(۱۰۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ زِیَادًا کَتَبَ إِلَی عَائِشَۃَ زَوْجِ النِّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ أَہْدَی ہَدْیًا حَرُمَ عَلَیْہِ مَا یَحْرُمُ عَلَی الْحَاجِّ حَتَّی یُنْحَرَ الْہَدْیُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِہَدْیِی فَاکْتُبِی إِلَیَّ بِأَمْرِکِ أَوْ مُرِی صَاحِبَ الْہَدْیِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لَیْسَ کَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ ہَدْیِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِیَدَیَّ ثُمَّ قَلَّدَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِیَدَیْہِ ثُمَّ بَعَثَ بِہَا مَعَ أَبِی فَلَمْ یَحْرُمْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شَیْء ٌ أَحَلَّہُ اللَّہُ لَہُ حَتَّی نُحِرَ الْہَدْیُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۱۱]
(١٠١٩٠) عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ زیادنے حضرت عائشہ (رض) کو خط لکھا کہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے قربانی روانہ کی اس پر وہ تمام کام حرام ہیں جو حج کرنے والے پر، یہاں تک کہ قربانی کو دی جائے اور میں نے اپنی قربانی روانہ کردی ہے تو آپ اپنا فتویٰ لکھ کردیں یا قربانی والے کو حکم دیں، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ بات ایسے نہیں جیسے ابن عباس (رض) نے کہی ہے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قربانیوں کے قلادے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھوں سے قلادے پہناتے تھے، پھر اپنی قربانی میرے والد کے ساتھ روانہ کردیتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تو کوئی چیز حرام نہ ہوتی تھی جو اللہ نے ان کے لیے جائز رکھی ہے، قربانی ہونے تک۔