(۱۰۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَوْسَقَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الْمَوَالِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَۃَ فِی الأُمُورِ کُلِّہَا کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُولُ : إِذَا ہَمَّ أَحَدُکُمْ بِالأَمْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ لْیَقُلِ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَأْسَتْقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہَذَا الأَمْرَ خَیْرٌ لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی أَوْ قَالَ فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِہِ - فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی ثُمَّ بَارِکْ لِی فِیہِ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی أَوْ قَالَ فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِہِ - فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ وَاقْدُرْ لِی الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِی بِہِ ۔ قَالَ : وَیُسَمِّی حَاجَتَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۰۹]
(١٠٣٠٢) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں دعائ استخارہ اس طرح سکھاتے تھے، جیسے قرآن کی کوئی صورت۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : تم میں سے کوئی جب کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت پڑھے، پھر کہے : اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ خیر کا سوال کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ طاقت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں؛ کیوں کہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں بہتر ہے یا فرمایا : میری دنیا اور آخرت کے معاملہ میں تو اسے میری قسمت میں کر دے ، اسے میرے لیے آسان کر دے اور پھر میرے لیے اس میں برکت دے۔ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں برا ہے یا میری دنیا و آخرتکے معاملہ میں تو مجھے اس سے ہٹا دے اور اسے مجھ سے دور کر دے اور میری قسمت میں بھلائی کر جہاں بھی مجھے اس پر راضی کر دے۔