hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10322

.

سنن البيهقي

10322
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۳۱۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ رَبِیعَۃَ : أَنَّہُ شَہِدَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ رَکِبَ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الرِّکَابِ قَالَ : بِاسْمِ اللَّہِ فَلَمَّا اسْتَوَی قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ ثُمَّ قَالَ {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} ثُمَّ حَمِدَ ثَلاَثًا وَکَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ : لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ۔ ثُمَّ ضَحِکَ فَقِیلَ : مَا یُضْحِکُکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ؟ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ ثُمَّ ضَحِکَ فَقُلْنَا : مَا یُضْحِکُکَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ قَالَ : الْعَبْدُ أَوْ قَالَ عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ یَعْلَمُ أَنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ ہُوَ ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۲۶۰۳۔ الترمذی ۳۴۴۶]
(١٠٣١٧) حضرت علی بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ وہ حضرت علی (رض) کے پاس تھے جس وقت وہ سوار ہوئے۔ جب انھوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو فرمانے لگے : بسم اللہ، اللہ کے نام ساتھ، جب سواری پر بیٹھ گئے تو کہنے لگے :” الحمد للہ “ تمام تعریفیں اللہ کے لیے، پھر کہا : اللہ پاک ہے جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا حالاں کہ ہم اس سے ملنے والے نہ تھے، پھر الحمد للہ تین بار اور اللہ اکبر تین بار کہا۔ پھر کہا : تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا ہے تو مجھے میرے گناہ معاف کر دے تیرے علاوہ گناہ معاف کرنے والا کوئی نہیں، پھر مسکرائے۔ کہا گیا : اے امیرالمومنین ! آپ (رض) کو کس چیز نے ہنسا دیا ؟ کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، انھوں نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے ہی کہا جیسے میں نے کہا، پھر مسکرائے ، ہم نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا ؟ فرمایا : بندے نے یا فرمایا میں نے تعجب کیا بندے کے کہنے سے کہ صرف تو ہی معبود ہے۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا ہے، میرے گناہ معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں جب کہ بندہ جانتا ہے کہ صرف وہی گناہ معاف کرتا ہے۔