(۱۰۳۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ أَنَّ أَبَا بَشِیرٍ الأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَسُولاً قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ وَالنَّاسُ فِی مَبِیتِہِمْ لاَ یَبْقَیَنَّ فِی رَقَبَۃِ بِعِیرٍ قِلاَدَۃٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلاَدَۃٌ إِلاَّ قُطِعَتْ قَالَ مَالِکٌ : أُرَی ذَلِکَ مِنَ الْعَیْنِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ بخاری ۲۸۴۳]
(١٠٣٢٩) ابو بشیر انصاری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بعض سفروں میں تھے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاصد روانہ کیا۔ عبداللہ بن ابوبکر کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ لوگ اپنی آرام گاہوں میں سو رہے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اونٹوں کی گردنوں میں تندی یا کوئی دوسرا قلادہ نہ رہ جائے ان کو کاٹ دو۔ امام مالک (رض) فرماتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ نظر کی وجہ سے تھا۔