(۱۰۴۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : ہِبَۃُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ الطَّبَرِیُّ الْفَقِیہُ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ قَالَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ -ﷺ- : وَدِدْنَا أَنَّ عُثْمَانَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدْ تَبَایَعَا حَتَّی نَنْظُرَ أَیُّہُمَا أَعْظَمُ جَدًّا فِی التِّجَارَۃِ فَاشْتَرَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَرَسًا بِأَرْضٍ أُخْرَی بِأَرْبَعِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ إِنْ أَدْرَکَتْہَا الصَّفْقَۃُ وَہِی سَالِمَۃٌ ثُمَّ أَجَازَ قَلِیلاً فَرَجَعَ فَقَالَ : أَزِیدُکُ سِتَّۃَ آلاَفِ دِرْہَمٍ إِنْ وَجَدَہَا رَسُولِی سَالِمَۃً فَقَالَ : نَعَمْ فَوَجَدَہَا رَسُولُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ ہَلَکْتْ فَخَرَجَ مِنْہَا بِشَرْطِہِ الآخَرِ۔
وَرَوَاہُ غَیْرُہُ وَزَادَ فِیہِ وَلاَ إِخَالُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلاَّ وَقَدْ عَرَفَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۴۲۴۰]
(١٠٤٢٣) صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم چاہتے تھے کہ حضرت عثمان اور عبدالرحمن بن عوف (رض) آپس میں تجارت کریں تو ہم دیکھیں کہ بڑا تاجر کون ہے، عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان سے ایک گھوڑا خریدا، جو دوسری جگہ پر تھا، جس کی قیمت ٤٠ ہزار درہم یا اس کے برابر تھی۔ فرمایا : اگر سودے کے بعد گھوڑا صحیح سالم ہوا تو سودا منظور ہے۔ پھر کچھ چلنے کے بعد واپس آگئے۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ میں چھ ہزار درہم مزید دیتا ہوں۔ اگر اس کو میرے قاصد نے صحیح سالم پا لیا ۔ اس نے کہا : ہاں تو عبدالرحمن بن عوف کے قاصد نے اس کو مرا ہوا پایا۔ عبدالرحمن بن عوف اس دوسری شرط سے نکل گئے۔