(۱۰۴۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : ہِبَۃُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِی مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ عُثْمَانَ ابْتَاعَ مِنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ أَرْضًا بِالْمَدِینَۃِ نَاقَلَہُ بِأَرْضٍ لَہُ بِالْکُوفَۃِ فَلَمَّا تَبَایَنَا نَدِمَ عُثْمَانُ ثُمَّ قَالَ : بَایَعْتُکَ مَا لَمْ أَرَہُ فَقَالَ طَلْحَۃُ : إِنَّمَا النَّظَرُ لِی إِنَّمَا ابْتَعْتُ مَغِیبًا وَأَمَّا أَنْتَ فَقَدْ رَأَیْتَ مَا ابْتَعْتَ فَجَعَلاَ بَیْنَہُمَا حَکَمًا فَحَکَّمَا جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ فَقَضَی عَلَی عُثْمَانَ أَنَّ الْبَیْعَ جَائِزٌ وَأَنَّ النَّظَرَ لِطَلْحَۃَ أَنَّہُ ابْتَاعَ مَغِیبًا۔
وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلاَ یَصِحُّ۔ [حسن]
(١٠٤٢٤) ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے طلحہ بن عبیداللہ سے مدینہ میں زمین خریدی۔ ان کی زمین کوفہ میں تھی اس سے تبادلہ کیا، جب ہم نے بیع کرلی تو حضرت عثمان (رض) پریشان ہوئے، پھر کہنے لگے : میں نے ایسی چیز کی بیع کی جس کو میں نے دیکھا نہیں، طلحہ کہنے لگے : دیکھنا تو میرے لیے ضروری تھا، کیونکہ میں نے غیب چیز خریدی ہے، لیکن آپ نے تو جو خریدا ہے اس کو دیکھا ہے، انھوں نے اپنے درمیان ایک فیصل مقرر کرلیا۔ جبیر بن مطعم ان کے فیصل تھے۔ جبیر نے حضرت عثمان کے خلاف فیصلہ سنایا کہ بیع جائز ہے اور دیکھنا تو حضرت طلحہ کو تھا ، کیونکہ اس نے ایک غیب چیز کو خریدا ہے۔