(۱۰۴۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَاللَّفْظُ لِلْحُمَیْدِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ : أَتَیْتُ نَافِعًا فَطَرَحَ لِی حَقِیبَۃً فَجَلَسْتُ عَلَیْہَا فَأَمْلَی عَلَیَّ فِی أَلْوَاحِی قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا تَبَایَعَ الْمُتَبَایِعَانِ فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِالْخِیَارِ مِنْ بَیْعِہِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا أَوْ یَکُونَ بَیْعُہُمَا عَنْ خِیَارٍ ۔ قَالَ: فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا تَبَایَعَ الْبَیْعُ فَأَرَادَ أَنْ یَجِبَ مَشَی قَلِیلاً ثُمَّ رَجَعَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَابْنِ أَبِی عُمَرَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۳۱]
(١٠٤٣١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خریدنے اور بیچنے والے کو آپس میں الگ ہونے سے پہلے سودا ختم کرنے کا اختیار ہوگا یا پھر دونوں کے درمیان بیع اختیاری ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) جب بیع فرماتے اور ان کا ارادہ ہوتا کہ بیع پکی ہوجائے تو تھوڑا سا چل کر واپس آجاتے۔