(۱۰۴۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ جَمِیلِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الْوَضِیئِ قَالَ : غَزَوْنَا غَزْوَۃً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا بِغُلاَمٍ ثُمَّ أَقَامَ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِمَا وَلَیْلَتِہِمَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنَ الْغَدِ حَضَرَ الرَّحِیلُ فَقَامَ إِلَی فَرَسِہِ یُسْرِجُہُ وَنَدِمَ فَأَتَی الرَّجُلَ وَأَخَذَہُ بِالْبَیْعِ فَأَبَی الرَّجُلُ أَنْ یَدْفَعَہُ إِلَیْہِ فَقَالَ : بَیْنِی وَبَیْنَکَ أَبُو بَرْزَۃَ صَاحِبُ النَّبِیِّ َسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَیَا أَبَا بَرْزَۃَ فِی نَاحِیَۃِ الْعَسْکَرِ فَقَالُوا لَہُ ہَذِہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ : أَتَرْضَیَانِ أَنْ أَقْضِیَ بَیْنَکُمَا بِقَضَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا ۔
قَالَ ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَ جَمِیلٌ أَنَّہُ قَالَ : مَا أُرَاکُمَا افْتَرَقْتُمَا۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداود ۳۴۵۷]
(١٠٤٣٨) ابوالوضی کہتے ہیں کہ ہم نے ایک غزوہ میں ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہمارے ساتھی نے گھوڑا غلام کے عوض فروخت کردیا۔ (پھر ان دونوں نے اس دن کا بقیہ حصہ اور رات کا قیام کیا) جب ہم نے صبح کی اور کوچ کا وقت آیا تو وہ اپنے گھوڑے پر زین کسنے کے لیے کھڑا ہوا اور پریشان ہوا۔ وہ اس آدمی کے پاس آیا اور بیع واپس کرنے کا کہا ، لیکن اس نے بیع واپس کرنے سے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ میرے اور تیرے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ابوبرزہ فیصلہ کریں گے۔ وہ لشکر کے ایک کونے میں حضرت ابوبرزہ اسلمی کے پاس آئے۔ انھوں نے قصہ بیان کیا تو ابوبرزہ (رض) فرماتے ہیں کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والا فیصلہ کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : خریدنے اور بیچنے والا جب تک الگ الگ نہ ہوں ان کو سودا ختم کرنے کا اختیار ہے۔
(ب) ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ تم دونوں جدا ہوچکے تھے۔