(۱۰۴۴۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدِ اللَّہِ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَمِّی قَالَ حَدَّثَنِی مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ یَقُولُ سَمِعْتُ شُعَیْبًا یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : أَیُّمَا رَجُلٍ ابْتَاعَ مِنْ رَجُلٍ بِیعَۃً فَإِنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِالْخِیَارِ حَتَّی یَتَفَرَّقَا مِنْ مَکَانِہِمَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ صَفْقَۃَ خِیَارٍ وَلاَ یَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ یُفَارِقَ صَاحِبَہُ مَخَافَۃَ أَنْ یُقِیلَہُ ۔
قَوْلُہُ یُقِیلَہُ أَرَادَ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ یَفْسَخُہُ فَعَبَّرَ بِالإِقَالَۃِ عَنِ الْفَسْخِ۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَجَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ثُمَّ عَنْ شُرَیْحٍ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ فِی کِتَابِ الصَّحِیحِ وَقَالَ اللَّیْثُ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بِعْتُ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَالاً بِالْوَادِی بِمَالٍ لَہُ بِخَیْبَرَ فَلَمَّا تَبَایَعْنَا رَجَعْتُ عَلَی عَقِبِیَّ حَتَّی خَرَجْتُ مِنْ بَیْتِہِ خَشْیَۃَ أَنْ یَرُدَّنِی الْبَیْعَ وَکَانَتِ السُّنَّۃُ أَنَّ الْمُتَابِعَیْنِ بِالْخِیَارِ حَتَّی یَتَفَرَّقَا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : فَلَمَّا وَجَبَ بَیْعِی وَبَیْعُہُ رَأَیْتُ أَنِّی قَدْ غَبَنْتُہُ فَإِنِّی سُقْتُہُ إِلَی أَرْضِ ثَمُودَ بِثَلاَثِ لَیَالٍ وَسَاقَنِی إِلَی الْمَدِینَۃِ بِثَلاَثِ لَیَالٍ۔ [ضعیف]
(١٠٤٤٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ شخص نے کسی سے سامان خریدا تو دونوں کو اختیار ہے، یہاں تک کہ دونوں اپنی جگہ سے جدا ہوجائیں، سوائے اس کے کہ دونوں کے درمیان بیع اختیاری ہو اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ بیع کے فسخ کے ڈر سے جدا نہ ہوں۔ بیع کے فسخ کرنے کو اقالہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان (رض) کو وادی کا مال ان کے خیبر کے مال کے بدلے فروخت کردیا، جب ہم نے بیع کرلی تو میں الٹے پاؤں واپس ہوا۔ یہاں تک کہ میں اس ڈر سے گھر سے نکل گیا کہ کہیں بیع واپس نہ کردیں، اور طریقہ یہ تھا کہ جب خریدنے والا اور بیچنے والے دونوں الگ الگ نہ ہوں تو انھیں سودا توڑنے کا اختیار ہوتا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں : جب میری اور ان کی بیع مکمل ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ میں نے ان سے دھوکا کیا ہے کہ میں ان کو قوم ثمود کی زمین کی طرف تین راتوں کی مسافت چلایا ہے جبکہ اس نے مجھے مدینہ کی سرزمین کی طرف تین راتوں کی مسافت قریب کردیا ہے۔