(۱۰۴۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ یَقُولُ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَاللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یَقُولُ: الْحَدِیثُ فِی الْبَیِّعَیْنِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا أَثْبُتُ مِنْ ہَذِہِ الأَسَاطِینِ قَالَ وَسَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَ الْکُوفِیِّینَ بِحَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْبَیِّعَیْنِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا قَالَ فَحَدَّثُوا بِہِ أَبَا حَنِیفَۃَ فَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ :إِنَّ ہَذَا لَیْسَ بِشَیْئٍ أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَا فِی سَفِینَۃٍ قَالَ عَلِیٌّ : إِنَّ اللَّہَ سَائِلُہُ عَمَّا قَالَ۔ [صحیح]
(١٠٤٥٣) عبداللہ بن مبارک (رح) فرماتے ہیں کہ وہ حدیث البیّعین بالخیار الخ دو بیع کرنے والے اختیار سے ہیں یا دو بیع کرنے والوں کو اختیار جب تک الگ الگ نہ ہو۔ باقی قصہ کہانیوں سے زیادہ ثابت ہے۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فی البیعین بالخیار مالم یتفرقا کو کوفی بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے ابوحنیفہ سے بیان کیا ہے لیکن ابوحنیفہ اس کو کچھ بھی خیال نہ کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں : اگر وہ دونوں ایک کشتی میں ہوں تب۔ حضرت علی (رض) فرماتے : اللہ سوال کریں گے جو اس نے کہا۔