hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10464

.

سنن البيهقي

10464
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۴۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتْ بِلِسَانِہِ لَوْثَۃٌ یَشْکُو إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ لاَ یَزَالُ یُغْبَنُ فِی الْبَیْعِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا بَایَعْتَ فَقَلْ لاَ خِلاَبَۃَ ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِیَارِ فِی کُلِّ سِلْعَۃٍ ابْتَعْتَہَا ثَلاَثَ لَیَالٍ فَإِنْ رَضِیتَ فَأَمْسِکْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَلَکَأَنِّی الآنَ أَسْمَعُہُ إِذَا ابْتَاعَ یَقُولُ : لاَ خِلاَبَۃَ یَلُوثُ لِسَانُہُ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ : کَانَ جَدِّی مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَکَانَ رَجُلاً قَدْ أُصِیبَ فِی رَأْسِہِ آمَّۃً فَکَسَرَتْ لِسَانَہُ وَنَقَّصَتْ عَقَلَہُ وَکَانَ یُغْبَنُ فِی الْبُیُوعِ وَکَانَ لاَ یَدَعُ التِّجَارَۃَ فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِذَا أَنْتَ بِعْتَ فَقَلْ لاَ خِلاَبَۃَ ثُمَّ أَنْتَ فِی کُلِّ بَیْعٍ تَبْتَاعُہُ بِالْخِیَارِ ثَلاَثَ لَیَالٍ إِنْ رَضِیتَ فَأَمْسِکْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَرُدَّ ۔ فَبَقِیَ حَتَّی أَدْرَکَ زَمَانَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ ابْنُ مِائَۃٍ وَثَلاَثِینَ سَنَۃٍ وَکَثُرَ النَّاسُ فِی زَمَانِ عُثْمَانَ فَکَانَ إِذَا اشْتَرَی شَیْئًا فَرَجَعَ بِہِ فَقَالُوا لَہُ : لَمْ تَشْتَرِی أَنْتَ فَیَقُولُ : قَدْ جَعَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِیمَا ابْتَعْتُ بِالْخِیَارِ ثَلاَثًا فَیَقُولُونَ ارْدُدْہُ فَإِنَّکَ قَدْ غُبِنْتُ أَوْ قَالَ غُشِشْتَ فَیَرْجِعُ إِلَی بَیْعِہِ فَیَقُولُ : خُذْ سِلْعَتَکَ وَرُدَّ دَرَاہِمِی فَیَقُولُ : لاَ أَفْعَلُ قَدْ رَضِیتَ فَذَہَبْتَ بِہِ حَتَّی یَمُرَّ بِہِ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ جَعَلَہُ بِالْخِیَارِ فِیمَا یَبْتَاعُ ثَلاَثًا فَیَرُدُّ عَلَیْہِ دَرَاہِمَہُ وَیَأْخُذُ سِلْعَتَہُ۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
(١٠٤٥٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری مرد سے سنا، اس کی زبان میں رکاوٹ تھی ۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیع میں دھوکا ہوجانے کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بیع کرو تو کہہ دیا کرو : دھوکا نہیں۔ پھر جو بھی سامان تو خریدے تو اس میں تجھے تین دن کا اختیار ہے۔ اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند کرے تو واپس کر دے۔ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : اب میں اس سے سنتا ہوں، جب بھی وہ کوئی سامان خریدتا ہے تو کہہ دیتا ہے دھوکا نہیں ۔ اس کی زبان میں لکنت تھی۔
(ب) محمد بن اسحاق کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان سے بیان کی تو انھوں نے کہا : میرے دادا منقذ بن عمرو تھے ۔ ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی۔ زبان میں لکنت ہوگئی۔ عقل کم ہوگئی۔ ان کو بیوع میں دھوکا ہوجاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے : دھوکا نہیں پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو ۔
یہ حضرت عثمان (رض) کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر ١٣٠ سال تھی۔ حضرت عثمان کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کردیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے : واپس کر دو ۔ آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سامان واپس کردیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو ۔ وہ کہتا : لے جاؤ ۔ آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کردیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔