(۱۰۵۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : اجْتَمَعَتْ غُنَیْمَۃٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِیہَا ۔ فَبَدَوْتُ إِلَی الرَّبَذَۃِ ، فَکَانَتْ تُصِیبُنِی الْجَنَابَۃُ فَأَمْکُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((أَبُو ذَرٍّ))۔ فَسَکَتُّ فَقَالَ : ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ أَبَا ذَرٍّ ، لأُمِّکَ الْوَیْلُ))۔ فَدَعَا بِجَارِیَۃٍ فَجَائَ تْ بِعُسٍّ مِنْ مَائٍ ، فَسَتَرَنِی بِثَوْبِی ، وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَۃِ فَاغْتَسَلَتُ ، فَکَأَنِّی أَلْقَیْتُ عَنِّی جَبَلاً ، فَقَالَ : ((الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَی عَشْرِ سِنِینَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمْسِسْہُ جِلْدَکَ فَإِنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ]
(١٠٥٠) سیدنا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مال غنیمت جمع ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر ! میں جنبی ہوگیا تو پانچ یا چھ دن ٹھہرا رہا، پھر میں رسول اللہ کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو ذر ! میں خاموش ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو ذر ! تیری ماں تجھے گم پائے تیری ماں کیلئے ہلاکت ہو۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لونڈی کو بلایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی، اس نے مجھے اپنے کپڑے کے ساتھ پردہ کیا اور میں نے پالان سے پردہ کیا، پھر میں نے غسل کیا گویا مجھ سے پہاڑہٹ گیا ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال نہ ملے اور جب تجھے پانی مل جائے اپنے جسم پر بہا ، یہ بہتر ہے۔