(۱۰۴۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَہُ بِحَدِیثٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَقَدِمَ أَبُو سَعِیدٍ فَنَزَلَ ہَذِہِ الدَّارَ فَأَخَذَ بِیَدِی حَتَّی أَتَیْنَاہُ فَقَالَ : مَا یُحَدِّثُ ہَذَا عَنْکَ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : بَصُرَ عَیْنِی وَسَمِعَ أُذُنِی قَالَ فَمَا نَسِیتُ قَوْلَہُ بِإِصْبَعِہِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- : نَہَی عَنْ بَیْعِ الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ وَبَیْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلاَّ سَوَائً بِسَوَائٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا أَحَدَہُمَا عَلَی الآخَرِ وَلاَ تَبِیعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۱۷۶]
(١٠٤٨٨) نافع فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا، اس نے ابوسعید خدری (رض) کی حدیث بیان کی کہ ابوسعید اس گھر میں آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک ہم آئے، عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : یہ آپ سے کیا بیان کرتا ہے ؟ ابوسعید کہنے لگے : میری آنکھوں نے دیکھا میرے کانوں نے سنا، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات کو نہیں بھولا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کی انگلی کے اشارہ سے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے کی خریدو فروخت سے منع کیا، مگر برابر برابر اور تم ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔