(۱۰۴۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ ثَابِتٍ الْعَتَوَارِیَّ حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ۔ فَمَشَی عَبْدُ اللَّہِ وَمَعَہُ نَافِعٌ حَتَّی دَخَلَ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : بَصُرَ عَیْنِی وَسَمِعَ أُذُنِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا وَلاَ یُبَاعُ عَاجِلٌ بِآجِلٍ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۴]
(١٠٤٨٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے عوض ہو ان کے درمیان تفاضل نہ ہو۔ حضرت عبداللہ اور ان کے ساتھ نافع بھی تھے چلے اور ابوسعید خدری (رض) کے پاس آئے، ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا : میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ دینار و درہم دینار و درہم کے عوض برابر وزن کے ساتھ ہوگا، برابر وزن کے ساتھ ان کے درمیان تفاضل نہ ہوگا اور نقد کو ادھار کے عوض نہ بیچا جائے گا۔